:
Breaking News

Political News: راہل گاندھی نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حمایت کی، کارروائی پر اٹھائے سوالات

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar: Political News: راہل گاندھی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مبینہ کارروائی پر سوالات اٹھائے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

پولیٹیکل ڈیسک، نئی دہلی، 5 اگست۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روز نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حالیہ طلبہ مظاہروں کے حوالے سے اپنی پارٹی کا مؤقف پیش کیا۔ اس موقع پر چند مظاہرہ کرنے والے طلبہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے، جنہوں نے میڈیا کے سامنے اپنے تجربات بیان کیے۔

پریس کانفرنس کے دوران بعض طلبہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ پُرامن مارچ کے دوران اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی آواز بلند کرنے پر مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور طلبہ نے اپنے مستقبل اور آئین کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو اپنی رائے کے اظہار پر معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ اگر کسی طالب علم پر دباؤ ڈال کر معافی منگوائی گئی ہے تو یہ تشویش کا موضوع ہے اور ایسے معاملات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں شفافیت لانے اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے جیسے مسائل پر مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنانا حکومت اور تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق امتحانی نظام کو مزید مضبوط اور شفاف بنایا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کا اعتماد برقرار رہے۔

تاہم، ان الزامات پر متعلقہ انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس معاملے میں سرکاری مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بہار اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج پر خصوصی رپورٹ

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے چہلم کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کیا

طلبہ کے مسائل پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت

طلبہ کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان سے متعلق معاملات میں تمام فریقوں کو تحمل، شفافیت اور آئینی اصولوں کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔ تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا، امتحانی بے ضابطگیوں پر قابو پانا اور نوجوانوں کا اعتماد بحال رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے کا حل تصادم نہیں بلکہ مکالمہ اور قانون کے دائرے میں رہ کر نکالا جانا چاہیے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *